Share this link via
Personality Websites!
ہیں ، آپ کو رسولِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے بےپناہ محبّت ہے ، اسی لئے تو عرض کر رہے ہیں : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! مجھے آپ کی خِدْمت میں حاضِری کا بہت شوق تھا ، آپ سے جُدائی میں چین مجھے بھی نہیں تھا مگرمیں اللہ پاک کے حکم کا پابند ہوں۔
بے لقائے یار اُن کو چین آ جاتا اگر
بار بار آتے نہ یُوں جبریل سدرہ چھوڑ کر ( [1] )
وضاحت : حضرت جبریل علیہ السَّلام سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کو چھوڑ کر بار بار بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوتے تھے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں محبوبِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی جُدائی میں چین نہیں آتا تھا ، اگر چین آتا ہوتا تو بار بار اتنا لمبا سفر نہ کرتے۔
جبریل علیہ السَّلام کی بارگاہِ رسالت میں حاضِریاں
امام عمر بن علی حنبلی رَحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں : * حضرت جبریل امین علیہ السَّلام حضرت آدم علیہ السَّلام کے پاس 12 مرتبہ تشریف لائے * حضرت ادریس علیہ السَّلام کے پاس 4 مرتبہ آئے * حضرت نُوح علیہ السَّلام کے پاس 50 مرتبہ آئے * حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کے پاس 42 مرتبہ آئے * حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کے پاس 400 مرتبہ آئے * مگر پیارے آقا ، محبوبِ خُدا ، امامُ الانبیا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں ( 12 مرتبہ نہیں ، 20 مرتبہ نہیں ، 50 مرتبہ نہیں ، 2 ، 4 سومرتبہ نہیں ، ہزار ، 2 ہزار مرتبہ نہیں بلکہ ) حضرت جبریل امین علیہ السَّلام میرے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں 24 ہزار مرتبہ حاضِر ہوئے۔ ( [2] )
اللہ ! اللہ ! کیا شان ہے ، پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پرپہلی وحی نازِل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami