Share this link via
Personality Websites!
ہے ، اللہ پاک کی بھی وہی رضا ہے ، جو آپ کی خُوشی ہے ، اللہ پاک کو بھی وہی بات عزیز ہے۔ اللہ پاک کو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے ایسی محبّت ہے کہ اُس رَبِّ کائنات نے تمام جہان آپ کے قبضہ و اختیار میں دے دئیے ہیں ، اس سے پتا چلتا ہے کہ اللہ پاک کو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا دِل خوش کرنا کتنا عزیز ہے۔
پیارےاسلامی بھائیو ! یہ آیتِ کریمہ جو ہم نے سننے کی سعادت حاصِل کی ، اس میں پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی بےمثال ( Extraordinary ) شانیں بیان ہوئی ہیں ، آیتِ کریمہ کی وضاحت سننے سے پہلے ، ایک ایمان افروز روایت سنیئے !
جبریل علیہ السَّلام کی پیارے آقا سے محبت
روایت ہے کہ فَتْرتِ وَحی ( یعنی وَحْی رُک جانے کے دِنوں ) کے بعد جب حضرت جبریل امین علیہ السَّلام وحی لے کر آئے تو پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : آپ آئے نہیں ، مجھے آپ کے آنے کی آرزو تھی ؟ حضرت جبریل امین علیہ السَّلام نے عرض کیا : کُنْتُ اِلَیْکَ اَشْوَق وَ لٰکِنِّیْ عَبْدًا مَاْمُوْرًا یعنی ( یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ) مجھے بھی آپ کی بارگاہ میں حاضِری کابہت شوق ہو رہا تھا مگر میں بندہ ہوں ، حکم اِلٰہی کا پابند ہوں۔ ( [1] )
نہ لگتا تھا سدرہ پہ جبریل کا دِل
گوارا نہ تھی ان کو فرقت نبی کی ( [2] )
سُبْحٰنَ اللہ ! کیا نرالی محبّت ہے ، حضرت جبریل امین علیہ السَّلام فرشتوں کے سردار ہیں ، اللہ پاک کے مُقَرَّب ہیں مگر پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے خادِم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami