Share this link via
Personality Websites!
اس آیتِ کریمہ کی ضمن میں محبوبِ ذیشان ، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی اور بھی بہت ساری شانوں کا بیان ہے ، وقت چونکہ کم ہے ، لہٰذا آخر میں اس آیتِ کریمہ کے متعلق ایک ایمان افروز نکتہ اَور سُن لیجئے !
امام فخر الدین رازی رَحمۃُ اللہ علیہ نے یہ ایمان افروز نکتہ بیان کیا ہے ، خُلاصۃً ( Briefly ) عرض کر رہا ہوں ، آپ لکھتے ہیں : اللہ پاک نے فرمایا :
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) ( پارہ : 30 ، وَالضُّحٰی : 3 )
تَرجَمه کَنزُالعِرفَان : تمہارے رَبّ نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔
یہاں دیکھئے ! اللہ پاک نے کس کو نہیں چھوڑا ؟ فرمایا : کَ اے محبوب ! آپ کو نہیں چھوڑا۔ اور اللہ پاک ناراض کس سے نہیں ہوا ؟ اس کا آیت میں ذِکْر نہیں ہے۔ لہٰذا اب آیت کا مفہوم صِرْف یہ نہیں ہو گا کہ اے محبوب ! اللہ پاک آپ سے ناراض نہیں ہوا ، بلکہ معنیٰ ہے : اللہ پاک ناراض نہیں ہوا۔ کس سے ناراض نہیں ہوا ؟ امام رازی فرماتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ * اےمحبوب ! اللہ پاک آپ سے بھی ناراض نہیں ہوا * آپ کے صحابۂ کرام سے بھی ناراض نہیں ہوا اور * قیامت تک کے لئے جو جو خوش نصیب آپ کی سچّی غُلامی اختیار کرے گا ، آپ سے سچّی محبّت کرے گا ، آپ کے صدقے میں اللہ پاک اس سے بھی ناراض نہیں ہو گا۔ ( [1] )
سُبْحٰنَ اللہ ! یہ بھی محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شانِ محبوبیت ہے کہ آپ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami