Share this link via
Personality Websites!
کچھ افراد کو یہود کے پاس بھیجا تا کہ مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے متعلق اُن سے معلومات ( Information ) حاصِل کریں۔
یہ افراد مدینہ منورہ پہنچے ، وہاں رہنے والے یہود سے اس بارے میں معلومات حاصِل کیں تو انہوں نے ان اَہْلِ مکہ کو چند سوالات بتائے اور کہا : مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے یہ سوال پوچھو ، اگر وہ ہمارے بتائے کے مطابق جواب دے دیں تو سمجھ لینا کہ وہ سچّے نبی ہیں۔
یہودی عُلَما کی گفتگو سُن کر وہ دونوں شخص واپس آگئے۔ اب کُفّارِ مکہ کو ایک بڑی واضِح پہچان مل گئی تھی ، انہوں نے یہ سوال پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں پیش کر دئیے ! چنانچہ اس موقع پر اللہ پاک نے سُورۂ کہف اور سورۂ بنی اسرائیل کی کچھ آیات نازِل ہوئیں۔ ( [1] )
سُبْحٰنَ اللہ ! پیارےاسلامی بھائیو ! دیکھئے ! کفّارِ مکہ اپنے طَور پر رسولِ ذیشان ، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کاامتحان لے رہے تھے ، اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تائیدفرمائی اور وحی نازِل فرما کریہ واضِح فرما دیا کہ محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سچّے نبی ہیں۔ یہ صِرْف ایک موقع نہیں ، آپ تفسیرصراط الجنان کی مدد سے تمام قرآنی آیات کے شانِ نزول جمع کر لیجئے ! انہیں پڑھیئے ! پتا چلے گا کہ الحمدللہ ! ہر ہر موقع پر اللہ پاک نے قرآنی آیات نازِل فرما کر اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تائید اور مدد فرمائی ہے۔
خیر ! یہ ایک خوبصُورت آیتِ کریمہ ہے :
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) ( پارہ : 30 ، وَالضُّحٰی : 3 )
تَرجَمه کَنزُالعِرفَان : تمہارے رَبّ نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami