Share this link via
Personality Websites!
زبور شریف نازِل فرمائی تو پُوری زبور شریف ایک ہی بار میں نازِل فرمائی * حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام پر انجیل شریف نازِل فرمائی تو پُوری انجیل شریف ایک ہی مرتبہ میں نازِل فرما دی مگر محبوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر جب قرآنِ کریم نازِل فرمانا چاہا تو پُورا قرآن ایک ہی مرتبہ میں نہیں اُتارا بلکہ 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازِل فرمایا۔
آخر کیوں ؟ پُورا قرآنِ کریم ایک ہی مرتبہ میں نہیں اُتارا گیا ؟ اس میں بھی تائیدِ مصطفےٰ کا پہلو ہے ، آپ قرآنی آیات اور ان کے شانِ نزول پڑھ کر دیکھئے ! * میرے محبوب آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو جب جب کوئی اَہَم فیصلہ درپیش ہوا ، اللہ پاک نے وحی نازِل فرمائی * جب جب کوئی اَہَم واقعہ پیش آیا ، اللہ پاک نے وحی نازِل فرمائی * تبلیغِ دِین میں کوئی مشکل ( Difficulty ) پیش آئی ، اللہ پاک نے وحی اُتاری * کفّار نے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دُکھ پہنچایا ، اللہ پاک نے وحی اُتاری * غیر مسلموں نے دِلِ مصطفےٰ کو ٹھیس پہنچائی ، رَبّ کریم نے قرآنی آیات بھیج کر تسلی ارشاد فرمائی * مُنَافقوں نے سازشیں ( Conspiracies ) رچائیں ، اللہ پاک نے وحی بھیج کر اپنےمحبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی مدد و نصرت فرمائی ، غرض کہ 23 سال تک قرآنِ کریم کا نزول مسلسل جاری رہا اور یُوں ہر ہر موقع پر پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تائید و نصرت اور خصوصی مدد و حفاظت ( Help and Safety ) کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔
روایات میں ہے : ایک مرتبہ کُفّارِ قریش نے آپس میں مشورہ ( Consult ) کیا کہ یہود اَہْلِ کِتاب ہیں ، وہ انبیائے کرام علیہم السَّلام کے متعلق معلومات رکھتے ہیں ، لہٰذا انہوں نے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami