Share this link via
Personality Websites!
مگراب اس کی شان نِرالی تھی ، وہی لاغر و کمزور اُونٹنی اب سب سے آگے آگے چل رہی تھی ، دیگر خواتین نے سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا سے پوچھا : اے حلیمہ ! کیا یہ وہی اونٹنی ہے ؟ اس کی شان عجیب ہے۔ سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے سُنا اُونٹنی بول کر کہہ رہی تھی : وَاللہ اِنَّ لِی لَشَانًا ثُمَّ شَاْنًا بَعَثَنِیَ اللہ بَعْدَ مَوْتِی اللہ پاک کی قسم ! آج میری بڑی شان ہے ، پھر بڑی ہی شان ہے ، آج رَبِّ قدیر نے مجھے موت کے بعد زندگی عطا کر دی ہے۔ ( [1] )
سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : راستے میں ایک مقام پر میں نے دیکھا ، 40 غیر مسلم ( Non-Muslims ) جمع تھے ، ان کے پاس ننگی تلواریں تھیں اور مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے متعلق باتیں کر رہے تھے ، جب انہوں نے آمنہ کے لال ، رسولِ بےمثال صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دیکھا تو بولے : وَیْحَکُمْ ہٰذَا ہُوَ الْغُلَام فَاقْتُلُوْہُ تمہارا بُرا ہو ، یہ وہی ہیں ، انہیں قتل کر دو ! ( مَعَاذَاللہ ! ) ۔
سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : ان کی یہ بات سُن کر میرے مُنہ سے بےساختہ نکلا : وَا مُحَمَّداہ ! آہ... ! ! مُحَمَّد ! بس میری زبان سے اتنا نکلنے کی دیر تھی محبوبِ خُدا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اپنی مبارک آنکھیں کھولیں ، نگاہِ مُقَدَّس آسمان کی طرف اُٹھائی ، بس آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نظر مبارک آسمان پر پڑنے کی دَیر تھی کہ اچانک آسمان سے ایک آگ برسی جس نے ان 40 کے 40 غیر مسلموں کو جلا کرراکھ کر دیا۔ ( [2] )
نُورِ خُدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ( [3] )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami