Share this link via
Personality Websites!
غرض کہ میرے آقاکا پیارا پیارا مبارک نُور جب سے تخلیق ہوا ، ہر ہر لمحہ اس کی حفاظت ( Protection ) کی گئی ، اس مبارک نُور پر رحمت و عنایات کی بارش برستی رہی ، یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دُنیائے ظاہِر میں جلوہ فرما ہو گئے۔
محبوب ہو تم خالقِ کل ، مالِکِ کل کے کیوں خلق پہ قبضہ نہ ہو سرکار تمہارا
تم پیارے نبی نُورِ جلی ، سِرِّ خفی ہو اللہ تَعَالیٰ ہے خبردار تمہارا ( [1] )
وضاحت : اے پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! آپ ہر چیز کے خالِق ، ہر چیز کے مالِک اللہ کریم کے محبوب ہیں ، پِھر آپ کا تمام مخلوق پر قبضہ کیوں نہیں ہو گا... ؟ آپ روشن نُور ، ایک چھپا ہوا راز ہیں ، اللہ پاک ہی ہے جو آپ کا خبردار ، آپ کی حقیقت کو پُوری طرح جاننے والا ، آپ کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھنے والا ہے۔
پیارے نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے بچپن مبارک ( Childhood ) کی بات ہے ، جب آپ کی دائی صاحبہ سیدہ حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہ عنہا مکہ مکرمہ حاضِر ہوئیں ، سیدِ عالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے انہیں اپنی خدمت کے لئے قبول فرما لیا تو حضرت حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے ماہِ ذیشان ، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو گود میں لیا ، آپ کی اَمِّی جان حضرت آمنہ رَضِیَ اللہ عنہا کو الوداع کہا ، اپنی اُونٹنی پرسُوار ہوئی تو اُونٹنی نے اپنا چہرہ کعبہ شریف کی طرف کیا ، 3 سجدے کئے ، پِھر اپنی راہ پر چل پڑی۔
اللہ اَکْبَر ! یہ وہی اُونٹنی تھی جو بہت لاغر وکمزور ( Weak ) تھی ، جب سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا مکہ پاک آرہی تھیں تو یہ اونٹنی سب سے پیچھے پیچھے تھی ، چل ہی نہیں پا رہی تھی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami