Share this link via
Personality Websites!
اس آیت کا ایک معنیٰ علمائے کرام نے یہ بیان فرمایا کہ اے محبوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! حضرت آدَم علیہ السَّلام سے لے کر حضرت عبد اللہ و حضرت آمنہ رضی اللہ عنہما تک آپ کے جتنے آباء و اَجْدَاد ( Ancestors ) ہیں ، سب کے سب عبادت گزار اور سجدے کرنے والے ہیں ، آپ کا نُور مبارک جب ان میں دورہ فرما رہا تھا ( یعنی ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہو رہا تھا ) آپ کا رَبّ اس وقت بھی آپ کو دیکھ رہا تھا۔ ( [1] )
آقاکریم پر رَبِّ رحمٰن کی عنایات
اللہ ! اللہ ! اے عاشقان ِ رسول ! ذرا غور کرنے کا مقام ہے ، سمجھنے کی بات ہے اللہ پاک کو اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے کیسی محبّت ہے ، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر کیسی کیسی عنایات کی بارش ہے ، اللہ پاک نے جب سے اپنےمحبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا نُورِ مبارک پیدا فرمایا ، تب سے اس پاکیزہ نُور کو اپنی خاص حفاظت و نگہداشت میں رکھا * آپ ہی کا نُور مبارک حضرت آدم علیہ السَّلام کی پیشانی میں رکھ کر فرشتوں سے اسے سجدہ کروایا گیا * پِھر یہی مبارک نُور حضرت شیث علیہ السَّلام کی پیشانی مبارک میں چمکا تو آپ کو ہر میدان میں فتح عطا فرمائی گئی * پِھر یہی نُور مبارک حضرت نُوح علیہ السَّلام کی پیشانی میں روشن ہوا تو طوفانِ نُوح سے ساری دُنیا غرق کر دی گئی مگر حضرت نُوح علیہ السَّلام اور آپ کے رُفَقاء ( Companions ) کو کشتی کے ذریعے محفوظ رکھا گیا * پِھر یہی نُور مبارک حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی پیشانی مبارک میں چمکا تو نارِ نمرود ( یعنی نمرود کی جلائی ہوئی اس بڑی آگ ) سےآپ کی حفاظت کی گئی اور آگ کو گلزاربنا دیا گیا * پِھر یہی نُور مبارک حضرت اسماعیل علیہ السَّلام کی پیشانی مبارک میں چمکا تو آپ کے فدیے میں جنّتی مینڈھا ( Lamb ) لایا گیا ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami