Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف ( ترجمہ : میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی )
فرمانِ آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم : تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درودِ پاک پڑھ کر آراستہ ( Beautify ) کرو ، تمہارا مجھ پر درود پڑھنا روزِ قیامت تمہارے لئے نور ہو گا۔ ( [1] )
تیری اِک اِک ادا پر اے پیارے سَو درودیں فدا ، ہزار سلام
رَبِّ سَلِّم کے کہنے والے پر جان کے ساتھ ہوں نثار سلام
وہ سلامت رہا قیامت میں پڑھ لئے جس نے دِل سے چار سلام ( [2] )
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) ( پارہ : 30 ، وَالضُّحٰی : 3 )
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
پیارےاسلامی بھائیو ! جمعۃ المبارک کے پچھلے 2 اجتماعات میں ہم نے سورۂ وَالضُّحٰی کی پہلی 2آیاتِ کریمہ کی کچھ وضاحت سننے کی سَعَادت حاصِل کی ، ان پہلی 2آیات میں اللہ پاک نے 2 چیزوں کی قسم ارشاد فرمائی ہے ، وہ 2 چیزیں کیا ہیں ؟ عُلَمائے کرام نے ان سے کیا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami