Share this link via
Personality Websites!
پڑھتے کہ آپ کے مبارک پاؤں پر سوجَن آ جاتی۔ ( [1] ) اُمُّ الْمُؤْمِنِین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قِیَامُ اللَّیْل ( رات کی نفل نماز ) ہرگز نہ چھوڑتے۔ ( [2] ) اُمُّ الْمُؤْمِنِین حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہ عنہا کی روایت کے مطابق آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معمول مبارک یہ تھا کہ رات کو نماز ادا فرماتے ، پھر جتنی دیر نماز ادا کی ، اتنی ہی دیر آرام فرماتے ، پھر اُٹھتے اور جتنی دیر آرام کیا ، اتنی دیر نماز ادا فرماتے ، پھر نماز پڑھنے کی مِقْدار آرام فرماتے ، یونہی کرتے رہتے یہاں تک کہ فجر کا وقت شروع ہو جاتا۔ ( [3] )
صحابئ رسول حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں نماز ادا فرما رہے تھے ، میں نے موقع غنیمت جانا اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے کھڑے ہو کر اِقْتدا میں نماز شروع کر دی۔اللہ پاک کے رسول ، رسولِ مقبول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دورانِ نماز سورۂ بَقَرَہ کی تِلاوت شروع فرمائی ، میں دِل میں خیال کر رہا تھا کہ حُضُور ، جانِ کائنات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 100 آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے 100 آیات پر رکوع نہ کیا بلکہ آگے پڑھتے گئے ، اب میں نے خیال کیا کہ 200 آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے 200 آیات پر بھی رکوع نہ فرمایا۔ اب مجھے خیال ہوا کہ حُضُورِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پُوری سورۂ بَقَرَہ ( یعنی تقریباً اڑھائی سپارے ) مکمل پڑھ کر رکوع فرمائیں گے۔ چنانچہ سورۂ بَقَرَہ مکمل ہوئی مگر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اب بھی رکوع نہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami