Share this link via
Personality Websites!
کرتے اور ( آپ کو تِلاوتِ قرآن سے ایسی محبّت تھی کہ ) ایک ہی رکعت میں پُورے قرآن کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے۔ ( [1] )
حضرت عبد الرحمٰن تِیْمی رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک رات میں کعبہ شریف کے قریب ( یعنی مسجدِحرام میں ) تھا ، میں نے عشا کی نماز وہیں ادا کی ، پھر مقامِ ابراہیم کے پاس کھڑا ہو گیا ، اتنےمیں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ اَمِیرُ الْمُؤمِنِین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ تشریف لائے ، آپ نے سورۂ فاتحہ سے قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کی اور تلاوت کرتے گئے ، کرتے گئے ، یہاں تک کہ پُورا قرآنِ کریم مکمل ختم کر لیا۔ ( [2] )
سُبْحٰنَ اللہ ! پیارے اسلامی بھائیو ! غور فرمائیے ! کیسا ذوقِ عِبَادت ہے ، ایک ہی رکعت میں پُورا قرآن تِلاوت کر لینا کتنی ہمّت کی بات ہے اور اس پر استقامت بھی دیکھئے ! آپ یہ نیک کام روزانہ کیا کرتے تھے۔ آپ کی یہی وہ شان ہے جو قرآنِ کریم میں بیان ہوئی :
هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا
یعنی حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ وہ بُلند شان والے ہیں جن کی راتیں سجدے اور قیام میں اللہ پاک کی عِبَادت کرتے ، فرمانبرداری کرتے گزرتی ہیں۔
کاش ! ہمیں بھی یہ سَعَادت ملے ، ہم بھی راتوں کو عِبَادت کیا کریں ، نمازِ عشا باجماعت اداکریں ، پِھر کوشش کر کے کچھ نہ کچھ نوافِل پڑھ لیں ، قرآنِ کریم کی تِلاوت کریں ، ذِکْر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami