Share this link via
Personality Websites!
کرنے کا ذہن بنے گا ، دِل کی پاکیزگی ملے گی اور کردار اُجلا اُجلا ، نکھرا نکھرا ، خوبصُورت ہو جائے گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
( درست شرعی مسئلہ اور عوام میں مشہور غلط مسئلے کی نشاندہی )
مسئلہ : جلسے میں کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مِقْدار بیٹھنا واجِب ہے۔
وضاحت : 2 سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو جلسہ کہتے ہیں۔بہت سارے لوگوں کو یہ غلطی کرتے دیکھا جاتا ہے کہ جلد بازی میں جلسے میں پُورا بیٹھتے نہیں ہیں ، ایک سجدے سے اُٹھے ، ابھی پیٹھ سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ دوسرے سجدے میں چلے گئے ، اس طرح جلسہ پُورا نہیں ہوتا ، واجِب چُھوٹ جاتا ہے اور ایسا کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔ یاد رکھئے ! جلسے میں سیدھا بیٹھنا اور کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مِقْدار ٹھہرنا واجِب ہے ، اگر بُھولےسے جلسہ پُورا نہ کیا تو سجدۂ سہو واجب ہو گا اور اگر جان بُوجھ کر ایسا کیا ( یعنی جلسے میں پُورا نہ بیٹھا ) تو نماز واجِبُ الْاِعَادہ ہو گی یعنی نماز دوبارہ پڑھنی واجِب ہوگی ۔ ( [1] )
اللہ پاک ہمیں نماز سیکھ کر ، درست انداز سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
اسماء الحسنیٰ کی برکات ( وظیفہ )
یَا مُعِزُّ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami