Share this link via
Personality Websites!
پاک کی رحمت سے اُمِّید لگانے کا بھی اَصْل میں تقاضا یہی ہے کہ ہم کَثْرت سے عِبَادت کریں ، فرائض بھی پُورے کریں ، واجبات بھی پُورے کریں ، نفل عِبَادات بھی خُوب کیا کریں ، پِھر اللہ پاک کی رحمت سے اُمِّید بھی لگائیں کہ وہ رَبِّ رَحْمٰن و رَحِیْم ہے ، ہماری ناقِص عِبَادت کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول فرما کراپنی رحمت سے جنّت عطافرما دے گا۔
حضرت یحیٰ بن مُعَاذ رازی رحمۃُاللہ علیہ اللہ پاک کے بڑے نیک بندے تھے ، آپ پر عموماً اُمِّیدِ رحمت کا غلبہ رہتا تھا۔اس کے باوُجُود آپ کَثْرت سے عِبَادت کیا کرتے تھے ، ایک دِن کسی نے پوچھا : عالی جاہ ! آپ پر اُمِّید غالِب ہے مگر آپ عِبَادت ایسے کرتے ہیں جیسے آپ پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہو۔فرمایا : بیٹا ! سُنو... ! ! عِبَادت کو چھوڑنا گمراہی ہے جبکہ خوف اور اُمِّید ایمان کے 2 سُتُون ( Pilar ) ہیں۔ جس پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہو ، وہ اپنے خوف کو دُور کرنے اور اللہ پاک کے عذاب سے بچنے کے لئے عِبَادت کرتا ہے اور جس پر اُمِّیدِ رحمت کا غلبہ ہو ، وہ اللہ پاک کی رحمت کا حق دار بننے کے لئے عِبَادت کرتا ہے ، جب تک عِبَادت نہ ہو ، نہ خوف کوئی فائدہ دیتا ہے ، نہ اُمِّید۔ ہاں ! بندہ عِبَادت کرتا ہو تو اُمِّید اور خوف دونوں ہی عِبَادت بن جاتے ہیں۔ ( [1] )
یہ ہے اُمِّیدِ رحمت کا اَصْل مفہوم... ! ! ہم نے اللہ پاک کی رحمت سے اُمِّید رکھنی ہے ، ضرور رکھنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عِبَادت بھی کرنی ہے ، نمازیں بھی پانچوں کی پانچ وہ بھی باجماعت مسجد میں ادا کرنی ہیں ، روزے بھی رکھنے ہیں ، تلاوت بھی کرنی ہے ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami