Share this link via
Personality Websites!
نااُمِّید نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے :
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ ( پارہ : 24 ، الزمر : 53 )
ترجمہ کنزُ العِرْفان : اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ پاک کا خوف اور اس کی رحمت سے اُمِّید ، دونوں ہی ضروری ہیں ، اگر صِرْف خوفِ خُدا کا غلبہ ہو اور بندہ رحمت سے بالکل نااُمِّید ہو جائے ، یہ بھی درست نہیں ہے اور اللہ پاک کی رحمت سے اُمِّید ہو مگر بندہ اللہ پاک کی پکڑ سے بالکل بےخوف ہو جائے ، یہ بھی درست نہیں ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلام امام محمدغزالی رحمۃُاللہ علیہ نے اپنی کتاب مِنْہَاجُ الْعَابِدِیْن میں خوف اور اُمِّید کو عَقْبَۃُ الْبَوَاعِثْ کا نام دیا ہے یعنی خَوْف اور اُمِّید وہ چیزیں ہیں جو انسان کو عِبَادت پر اُبھارتی ہیں۔اس لئے ایک نیک اور عبادت گزار ، اچھا مسلمان بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اللہ پاک کی رحمت سے اُمِّید بھی رکھیں اور اس کی خفیہ تدبیر سے ، اس کے غضب سے خوف زدہ بھی رہیں۔
مُعَاشرے میں مایُوسی کی مثالیں
بدقسمتی سے آج کل جس طرح خوفِ خُداکی کمی پائی جاتی ہے ، ایسے ہی مایُوسی بھی پھیلتی جا رہی ہے۔ * ایک دِن دُکان پر آمدن کم ہوئی تو دِل پریشان ہو جاتا ہے * بیمار ہو گئے تو مایُوسی * کوئی پریشانی آئے تو مایُوسی * مصیبت آجائے تو مایُوسی * ہمارے نوجوان امتحان میں فَیْل ہو جائیں تو مایُوس ہو جاتے * بعض نادان تو مایُوسی کے گڑھے میں ایسے گرتے ہیں کہ تنگدستی ، غربت ، پریشانی اور امتحان وغیرہ میں ناکامی سے مایُوس ہو کر خودکُشی کی راہ لے لیتے ہیں۔ اَلْاَمَانْ وَالْحَفِیْظ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami