Share this link via
Personality Websites!
ہوتے ہیں ، جنہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں میری بظاہِر معمولی نظر آنے والی خطا بھی روزِ قیامت پکڑ کا سبب نہ بن جائے وہ اپنے مُلازِم تو کیا ، دُنیوی لحاظ سے اپنے سے بہت درجے کم رُتبہ سے بھی مُعَافی مانگنے میں بالکل نہیں شرماتے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ پاک سے ڈرتے ہیں۔
میرا رَبّ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک بار حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان کو ساتھ لے کر ان کی عِیَادت کے لئے تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ چہرہ زمین کی طرف کر کے لیٹے ہوئے تھے ، پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : عثمان ! کیا ہوا ، اپنا سَر کیوں نہیں اُٹھاتے ؟ عرض کیا : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے اللہ پاک سے حیا آتی ہے۔ سرکارِ عالی ، مکے مدینے کے والی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کیوں حیا آتی ہے ؟ عرض کیا : یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میرا پاک پروردگار مجھ سے ناراض نہ ہو گیا ہو... ! ! ( [1] )
( اللہ اکبر ! اے عاشقانِ رسول ! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے کوئی گُنَاہ کا کام نہیں کیا تھا ، اللہ پاک کی ناراضی والا کوئی کام نہیں ہوا تھا ، مگر جو سچا عاشِق ہوتا ہے ، اسے بَس ہر وقت یہ دھڑکا ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا محبوب مجھ سے ناراض نہ ہو جائے ، حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کو بھی اسی طرح دھڑکا لگا ہوا تھا ، آپ زمین کی طرف چہرہ کر کے لیٹے ہوئے تھے ، سَر اُوپَر نہیں اُٹھا رہے تھے ، گویا اپنے طَوْر پر اِظْہارِ ندامت کر رہے تھے۔ ) جب سلطانِ انبیا ، محبوبِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پیارے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami