Share this link via
Personality Websites!
اللہ ! اللہ ! پیارے اسلامی بھائیو ! غور فرمائیے ! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ قطعی جنّتی ہیں ، آپ کو مالِکِ جنّت ، قاسِمِ نعمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خُود اپنی مبارک زبان سے ایک مرتبہ نہیں ، کئی بار جنّت کی خُوشخبری سُنائی بلکہ آپ تو وہ بُلند رُتبہ صحابی ہیں کہ آپ نے ایک بار نہیں ، کئی بار سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنّت خریدی ہے ، غرض؛ آپ کے جنّتی ہونے میں کوئی شک ہی نہیں مگر پِھر بھی آپ اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے کتنا ڈرا کرتے تھے ، آپ نے خوفِ خُدا کے غلبے کے سبب ہی یہ فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو ، مجھے جنّت کی بجائے جہنّم میں جانے کا حکم دے دیا جائے ، اس لئے میں یہ پسند کروں گا کہ جنّت و دوزخ کے درمیان ہی ڈَھیر ہو جاؤں۔
کاش ! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طَیبہ کی مصطَفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا ( [1] )
پیارے اسلامی بھائیو ! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی تو کیا شان ہے ، آپ اللہ پاک سے بہت ڈرنے والے تھے ، اسی لئے کبھی کسی کو ناحق تکلیف نہیں پہنچاتے تھے ، ایک مرتبہ آپ نے اپنے ایک غُلام سے فرمایا : میں نے ایک مرتبہ تمہارا کان مروڑا تھا ، اس لئے تُو مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔ ( [2] )
سُبْحٰنَ اللہ ! کیا کبھی کسی نے دیکھا کہ آقا اپنے غُلام سے یا سیٹھ اپنے مُلازِم سے مُعَافی مانگتا ہو ، کھلے دِل کے ساتھ اسے بدلہ لے لینے کی آفر کرتا ہو... ؟ ہاں ! جو خوفِ خُدا والے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami