Share this link via
Personality Websites!
اے کاش ! ہمیں فکرِ آخرت نصیب ہو جائے ، کاش ! ہم اپنے آقا و مولیٰ ، مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عَمَلی طَور پر اپنا آئیڈیل ( Ideal ) بنانے اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ پاک کو زِندگی میں نافِذ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ کاش ! عِبَادت کی توفیق مِل جائے۔
عبادت میں گزرے مِری زِندگانی کرم ہو کرم یاخدا ! یااِلٰہی ! ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
( 2 ) : آخرت سے ڈرنے والے
پیارے اسلامی بھائیو ! پارہ : 23 ، سورۂ زُمُر کی آیت : 9 میں حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کا دوسرا وَصْف یہ بیان ہوا کہ
یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ ( پارہ : 23 ، الزمر : 9 )
ترجمہ کنزُ العِرْفان : آخرت سے ڈرتا ہے۔
یعنی حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہا خرت سے بہت ڈرنے والے ہیں۔
عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے خوفِ خُدا کے واقعات
* مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہا یسے خوفِ خُدا والے تھے کہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تَر ہو جاتی تھی۔ ( [2] ) * ایک مرتبہ خوفِ خُدا کے غلبے کے سبب فرمایا : اگر مجھے جنّت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے اور مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ مجھے جنّت میں جانے کا حکم ہو گا یا جہنّم کی طرف بھیج دیا جائے گا ، اس وقت میں یہ پسند کروں گا کہ وہیں راکھ ہو جاؤں۔ ( [3] )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami