Share this link via
Personality Websites!
گاہ کے قریب نہ آئے۔ ( اِبن ماجہ ، کتاب الاضاحی ، باب الاضاحی واجبۃ ام لا ؟ ۳ / ۵۲۹ ، حدیث : ۳۱۲۳ ) * ہر بالِغ ، مُقیم ، مسلمان مردو عورت ، مالکِ نصاب پر قربانی واجِب ہے۔ ( عالمگیری ، ۵ / ۲۹۲ ) * اگر کسی پر قربانی واجِب ہے اور اُس وَقت اس کے پاس روپے نہیں ہیں توقَرض لے کر یا کوئی چیز فروخت کر کے قربانی کرے۔ ( فتاوی امجدیہ ، ۳ / ۳۱۵ملخصاً ) * قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذَبْح کرنا افضل اور بوقتِ ذَبْح بہ نیّتِ ثوابِ آخِر ت وہاں حاضِر رہنا بھی افضل۔ ( ابلق گھوڑے سوار ، ص۱۷ ) * نابالِغ کی طرف سے اگرچِہ واجِب نہیں مگر کر دینا بہتر ہے ( اور اجازت بھی ضَروری نہیں ) ۔ ( ابلق گھوڑے سوار ، ص٩ ) * بالغ اولاد یا زَوجہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو اُن سے اجازت طلب کرے اگر ان سے اجازت لئے بِغیر کردی تو ان کی طرف سے واجِب ادا نہیں ہوگا۔ ( بہارِ شریعت ، ۳ / ۳۳۴ ، حصہ۱۵ملخصاً )
قربانی کی بقیہ سنتیں اور آداب تربیتی حلقوں میں بیان کیے جائیں گے لہٰذا ان کو جاننے کیلئے تربیتی حلقوں میں ضرور شرکت کیجئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجْتِماع میں
پڑھےجانے والے6 دُرودِ پاک اور 2دعائیں
(1)شبِ جُمعہ کادُرُود
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami