Share this link via
Personality Websites!
سے ، اسی کے بیٹے کے ہاتھوں اسے ذلیل و رُسْوا کر دیا۔ غرض؛ یہ مُنَافقوں کے لئے نہایت ذِلَّت بھری سزا تھی ، جو ان کے حسد کے سبب اسی دُنیا میں انہیں دی گئی۔
اس سے ہمیں یہ بات سیکھنے کو ملی کہ ہر وہ کام جو شرعاً بالکل جائِز ہو اور اس سے اسلام کی ، رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّمْ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان و شوکت کا اِظْہار ہوتا ہو تو ہمیں وہ کام ضرور کرنا چاہئے ، کسی کو بُرا لگتا ہے تو لگتا رہے ، کافِر ، مُنافق اس کام کو دیکھ کر ، رسولِ ذیشان ، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان و عظمت سے جلتے ہیں تو جلتے رہیں ، ہمیں چاہئے کہ اسلام کا ، بانئ اسلام صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا چرچا گج وَج کے کرتے رہیں۔ اللہ پاک ہمیں توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو ! یہیں سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ حَسَد انتہائی بُری بیماری ہے ، حَسَد ہی کے سبب مُنَافق ذلیل و رُسْوا ہوئے ، اسی سبب سے ان کے دِل نُورِ ایمان سے محروم رہے اور یہ دُنیا و آخرت میں تباہ وبرباد ہو کر رہ گئے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم حَسَد سے ہمیشہ بچتے رہیں۔ اللہ پاک نے جسے جو عطا فرمایا ہے ، اس کی تقسیم ہے ، ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ پاک کی تقسیم پر ہمیشہ راضی رہیں۔
کسی کی دینی یا دُنیاوی نعمت کے زَوال ( یعنی اس سے چھن جانے ) کی تمنا کرنایا یہ خواہش کرنا کہ فُلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے ، اس کا نام حَسَد ہے۔ ( [1] )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami