Share this link via
Personality Websites!
ایک مرتبہ کسی غزوے کا موقع تھا ، مُنَافقوں کے سردار عبد اللہ بن اُبَیْ نے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نہایت سخت گستاخی کی اور بولا :
لَىٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّؕ ( پارہ : 28 ، سورۂ منافقون : 8 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : ہم مدینہ پِھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزّت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلّت والا ہے۔
اس بدبخت کی مراد یہ تھی کہ ہم عزّت والے ہیں اور مسلمان مَعَاذَ اللہ ! عزّت والے نہیں ہیں ، لہٰذا ہم مسلمانوں کو مدینۂ مُنَوَّرہ سے نِکال دیں گے۔
یہ بات اس بدبخت نے دورانِ سَفَر کہی ، جب یہ پلٹ کر مدینۂ مُنَوَّرہ آیا تو خُود اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہ عنہ جو بڑے پکّے مسلمان اور عاشِق رسول تھے ، انہوں نے اپنے والِد عبد اللہ بن اُبَیْ کو مدینہ پاک سے باہَر ہی روک لیا ، تلوار میان سے نکال لی اور فرمایا : جب تک یہ اِقْرار نہیں کرتے کہ تم ذلیل ہو اور مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نہایت عزّت والے ہیں ، اس وقت تک تمہیں مدینۂ مُنَوَّرہ کے اندر داخِل ہی نہیں ہونے دُوں گا۔ آخر اس مُنَافِق نے کہا : میں ذلیل ہوں ، مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم عزّت والے ہیں۔ تب یہ مدینۂ مُنَوَّرہ میں داخِل ہو پایا۔ ( [1] )
یہ ہے منافق کا حَسَد ، جلن اور یہ ہے اس کے حَسَد جلن میں اِضَافہ... ! ! اس بدبخت نے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی گستاخی کی ، اللہ کریم نے اسی کے گھر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami