Share this link via
Personality Websites!
یہ کونسی باطنی بیماری تھی ، اس تعلق سے بعض مفسرینِ کرام فرماتے ہیں؛ اس سے مراد حَسَد ہے۔ ( [1] ) مُنَافِق حَسَد کا شِکار تھے ، یہ رسولِ اَکْرم ، نورِ مُجَسَّمْ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان و شوکت ، اسلام کی ترقی ، فتح و نُصْرت سے جلتے تھے ، غمگین ہوتے تھے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے :
اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَاؕ ( پارہ : 4 ، سورۂ آلِ عمران : 120 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بُرا لگےاور تم کو بُرائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں۔
یہ حَسَد کی بیماری تھی ، جس نے منافقوں کو دِل سے ایمان قبول کرنے سے روکا اور یہ اِیْمَان سے محروم رہ کر جہنّم کے حقدار بن گئے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! یہاں ایک بات بڑی اہم اور سمجھنے کی ہے ، منافق پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان و شوکت دیکھ کر ، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ذِکْر کی بلندی دیکھ کر ، اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر جلتے تھے ، غمگین ہوتے تھے ، اللہ پاک نے فرمایا :
فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی۔
یعنی اللہ پاک نے ان کا غم مزید بڑھا دیا ، یہ جتنا جلتے تھے ، اللہ پاک اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا ذِکْر اور بلند فرماتا تھا ، یہ اسلام کی کامیابی سے جلتے تھے ، اللہ پاک اسلام کو مزید کامیابیاں عطافرماتا تھا ، غرض؛ یہ جس چیز سے جلتے تھے ، وہ مزید ان کے سامنے آتی تھی اور ان کی جلن میں مزید اِضَافہ ہوتا چلا جاتا تھا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami