Share this link via
Personality Websites!
سکتا ہوں ؟ فرمایا : کیوں نہیں ، بالکل چل سکتے ہو۔ پھر فرمایا : اگر اِبْنِ آدم کو جَو کے دانے برابر بھی یقین مِل جائے تو وہ پانی پر چل سکتا ہے۔ ( [1] )
اے عاشقانِ رسول ! ہمیں چاہئے کہ اپنا یقین ہر حال میں پختہ رکھیں ، کبھی بھی یقین کو ڈگمگانے نہ دیں ، اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : مَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِی اِلّا ضُعْفَ الْیَقِیْنِ یعنی مجھے اپنی اُمّت پر صِرْف یقین کی کمزوری کا خوف ہے۔ ( [2] ) ایک حدیثِ پاک میں ہے : اس اُمّت کے پہلے لوگ یقین اور زُہد کی برکت سے نجات پا گئے اور بعد میں آنے والے بخل ( یعنی کنجوسی ) اور لمبی اُمِّیدوں کے سبب ہلاک ہو گئے۔ ( [3] )
معلوم ہوا؛ بےیقینی کے سبب پیدا ہونے والی کنجوسی ہلاکت کا سبب ہے ، اس لئے ایسی بےیقینی سے ہر دَم بچئے ! ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا :
غُلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں ، نہ تدبیریں جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اللہ پاک ہمیں کامِل یقین کی دولت نصیب فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
( 2 ) : حسد کی بیماری
پیارے اسلامی بھائیو ! اللہ پاک نے فرمایا :
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : ان کے دِلوں میں بیماری ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami