Share this link via
Personality Websites!
پڑھا ، نتیجہ اپنے مطلب کے مطابق نظر نہیں آیا تو بےیقینی کا شکار ہو گئے * کوئی مشکل آئی ، دُعائیں مانگی ، نیتجہ اپنی مرضی کے مطابق نظر نہیں آیا تو بےیقینی کا شِکار ہو گئے * بلکہ حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ نماز کے وقت 10 سے 15 منٹ کے لئے دُکان بند کرنا گوارا نہیں کرتے ، دِل میں کھٹکا ہوتا ہے کہ دُکان بند ہو گئی تو رِزْق کہاں سے آئے گا۔ اَلْاَمان وَالْحَفِیْظ... ! ! رِزْق دُکان سے نہیں آتا ، رِزْق اللہ پاک عطا فرماتا ہے۔
بہر حال ! یہ بےیقینی کی کیفیات کہیں نہ کہیں ہمارے معاشرے میں موجود ہوتی ہیں ، ان سے جان چھڑانی چاہئے ، بےیقینی کا شِکار نہ ہوں ، اپنی خطا پر نظر کریں ، اللہ پاک کی عطا میں کمی نہیں ہو سکتی ، ہاں ! میرے مانگنے میں نقص ہو سکتا ہے ، اللہ و رسول کے ارشادات بالکل حق ، سچ ہیں ، ان میں ذَرَّہ برابر اُونچ نیچ نہیں ہے ، ہاں ! میں نے وظیفہ پڑھا ، نتیجہ نہیں نکلا ، ضرور میرے پڑھنے میں کمی ہو گی۔ اس طرح اپنے اندر یقین کو پختہ کریں۔
* یقین کامِل ہو تو اللہ پاک نمرود کی جلائی ہوئی آگ کو بھی گلزار بنا دیتا ہے * یقین پختہ ہو تو دریاؤں میں بھی راستے نکل آتے ہیں * یقین کامِل ہو تو رستے کی رُکاوٹیں ہی نشانِ منزل بن جاتی ہیں * یقین کامِل ہو تو مشکل مشکل نہیں رہتی * امام اِبْنِ ابی دُنیا رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں : ایک مرتبہ اللہ پاک کے نبی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کہیں تشریف لے گئے ، آپ کے حَوَّاری ( یعنی آپ پر ایمان لانے والے ) آپ کو ڈھونڈنے لگے ، بالآخر وہ لوگ سمندر کے قریب آئے تو دیکھا؛ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پانی پر چلتے ہوئے تشریف لا رہے ہیں ، یہ دیکھ کر ایک حَوَّاری نے عرض کیا : اے اللہ پاک کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام ! کیا میں بھی اس طرح پانی پر چل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami