Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو ! اس آیت کریمہ میں چند باتیں ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے اور سبق حاصِل کرنے کی ہیں؛ سب سے پہلے تو یہ سمجھئے کہ اللہ پاک نے جو فرمایا :
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : ان کے دِلوں میں بیماری ہے۔
یہ بیماری جو منافقوں کے دِلوں میں ہے ، یہ کونسی ہے ؟ اس بارے میں مُفَسِّرِینِ کرام نے مختلف وضاحتیں فرمائی ہیں۔
( 1 ) : شک کی بیماری
بہت سارے مُفَسِّرِینِ کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں منافقوں کی جس باطنی بیماری کا ذِکْر کیا گیا ہے ، اس سے مراد شک ہے۔ ( [1] ) یعنی منافق شک میں مبتلا تھے ، انہیں اللہ پاک پر ، اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر ، اللہ و رسول کے مبارک ارشادات پر کامِل یقین نہیں تھا ، یہ تذَبْذُبْ کا شکار رہتے تھے ، ان کے اسی شک کے سبب ان کے دِلوں میں ایمان کی شمع روشن نہ ہوئی ، نتیجۃً ان کے دِلوں میں بزدلی بڑھتی گئی اور یہ ہر میدان میں ناکام ہوتے چلے گئے۔
یہ تھی منافقوں کی بیماری... ! ! ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ پر ، اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر ، ان کے مبارک فرامین پر ہمیشہ کامِل یقین رکھیں ، کبھی بھی اپنے یقین کو ڈگمگانے نہ دیں۔ ہمارے ہاں لوگ بہت مرتبہ بےیقینی کا شکار ہو جاتے ہیں؛ * کوئی وظیفہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami