Share this link via
Personality Websites!
منافقوں کےاس عیب کی سزا انہیں یہ دی گئی کہ
فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی۔
یہ اِن کی دُنیوی سزا ہے ، مریض کا کام ہوتا ہے کہ خُود کو مریض مانے ، طبیب کے پاس باادب حاضِر ہو ، طبیب جو عِلاج بتائے اس پر عَمَل کرے مگریہ منافق انتہائی بدبخت ہیں ، ان کے دِل بیمار ہیں مگر یہ اپنے دِل کا عِلاج کرنے کی بجائے الٹی راہ چلتے ہیں ، اللہ پاک کے پیارے محبوب صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم جو دِلوں کے طبیب ہیں * انہی سے بغض رکھتے ہیں * ان سے حَسَد کرتے ہیں * ان کی بات نہیں مانتے * الٹا انہیں دھوکادینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، جب ان کے دِل اس حد تک بیمار ہیں تو ان کو یہ سزا ملی کہ اللہ پاک نے ان کی بیماری کو مزید بڑھا دیا اور یہ گمراہی کے گڑھے میں گرتے ہی چلے گئے۔
اللہ پاک نے مزید فرمایا :
وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰) ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ، بدلہ ان کے جھوٹ کا۔
یہ منافقوں کا دوسرا عیب اور اس کی سزا ہے ، یہ بدبخت کہتے ہیں : ہم ایمان لائے مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایمان قبول نہیں کیا ، کہتے ہیں کہ ہم آپ صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کوسچّا رسول مانتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بدبخت ہیں ، آپ صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو سچّا نبی تسلیم نہیں کرتے۔ ان بدبختوں نے ایسی بڑی جسارت کی ، اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی جناب میں جھوٹ بولا ، ان بدبختوں کی ایسی جسارت کی سزا یہ ہے کہ روزِ قیامت ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اللہ پاک ہمیں عذابِ قبر ، حسابِ محشر اور عذابِ جہنّم سے محفوظ فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami