Share this link via
Personality Websites!
ہمیشہ بچتے رہیں۔ اس سے پیچھے کی 2 آیات ( آیت : 8 اور 9 ) میں یہ بتایا گیا کہ منافق زبان سے تو کلمہ پڑھتے ہیں مگر دِل سے ایمان قبول نہیں کرتے ، یہ ایسے بدبخت ہیں جو اللہ پاک کو ، اس کے پیارے محبوب صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو اور اَہْلِ ایمان کو دھوکا دینے کی کوشش میں ہیں مگر نہیں جانتے کہ اللہ و رسول کو تو دھوکا دیا ہی نہیں جا سکتا ، حقیقت یہ ہے کہ یہ بدانجام خُود فریبی ( یعنی خُود اپنے آپ ہی کو دھوکا دینے ) میں مَصْرُوف ہیں۔
آج جو آیتِ کریمہ ہم نے سُننے کی سَعَادت حاصِل کی ، اس میں مُنَافقوں کے 2 عیب اور 2سزاؤں کا بیان ہے۔ چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا :
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : ان کے دِلوں میں بیماری ہے۔
یہ منافقوں کا پہلاعیب ہے؛ ان کے ہاتھ ، پیر ، آنکھیں وغیرہ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ہیں ، ظاہِری جسم میں اگرچہ کوئی عیب نہ ہو ، البتہ ان کے دِل میں بیماری ہے * حَسَد کی بیماری * بغض و کینہ کی بیماری * شک کی بیماری * محبتِ دُنیا کی بیماری ، ان باطنی بیماریوں نے ان کے دِل مردہ کر ڈالے اور یہی وہ مرض ہے جو سب سے خطرناک اور سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ کسی شاعِر نے کیاخُوب کہا ہے :
زندگی زندہ دِلی کا نام ہے مردہ دِل کیا خاک جِیا کرتے ہیں
انسان کی ساری انسانیت ، کسی بھی شخصیت کا سارا حُسْن اس کے دِل کی پاکیزگی پر ہے ، اگر دِل بیمار ہے ، دِل میں حسد ، بغض ، کینہ ، تکبر وغیرہ کے سانپ پالے ہوئے ہیں تو ایسا شخص نہایت نقصان میں ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami