Share this link via
Personality Websites!
مُنَافقوں کا دوسرا عیب : جھوٹ
پیارے اسلامی بھائیو ! یہ مُنَافقوں کا پہلا عیب ہے کہ
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : ان کے دِلوں میں بیماری ہے۔
ان کا دوسرا عیب یہ بتایا گیا کہ یہ بدبخت جھوٹ بولتے ہیں ، اللہ پاک نے فرمایا :
وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰) ( پارہ : 1 ، سورۂ بقرہ : 10 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ، بدلہ ان کے جھوٹ کا۔
اس سے معلوم ہوا؛ جھوٹ بولنا نہایت سنگین جُرْم ہے کہ اس کے سبب آخرت میں دَرْدناک عذاب کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! جھوٹ کا معنیٰ ہے : سچ کا اُلٹ۔ جھوٹ بولنا منافقوں کا عَمَل ہے مگر افسوس ! آج کل جھوٹ بہت عام ہوتا جا رہا ہے * تاجِر سودا بیچنے کے لئے جھوٹ بولتے بلکہ جھوٹی قسم تک کھا جاتے ہیں * اپنی واہ وا کے شوق میں جھوٹے خواب بنا کر سُنائے جاتے ہیں * والدَیْن بچوں کو بہلانے کے لئے جھوٹے بہلاوے دیتے ہیں * سکول ، آفس یا دُکان وغیرہ سے چھٹی لینے کے لئے جھوٹے بہانے بھی لگائے جاتے ہیں * کسی کا قرض لوٹانا باقِی ہو تو اسے بھی بعض اوقات جھوٹے بہانے لگائے جاتے ہیں * جھوٹ بول کر ٹرخایا جاتا ہے * جھوٹے وعدہ بھی ہوتے ہیں * پھر سوشل میڈیا؛ جھوٹ بولنے اور جھوٹی باتیں پھیلانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
غرض؛ جھوٹ ہمارے مُعَاشرے میں پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ لوگ بات بات پر جان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami