Share this link via
Personality Websites!
جاتے ہیں۔ یعنی ایمان نہایت میٹھا ہے ، حَسَد نہایت کڑوا ہے ، جب مؤمن کے دِل میں حَسَد آجاتا ہے تو اِیْمان کو بگاڑ دیتا ہے اور انتہائی بدمزہ بنا دیتا ہے۔ ( [1] )
ایک حدیثِ پاک میں ہے : لَایَجْتَمِعُ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ اَ لْاِیْمَانُ وَالْحَسَدُیعنی مومن کے دل میں ایمان اور حَسَد جمع نہیں ہوتے۔ ( [2] )
اللہ اَکْبَر ! پیارے اسلامی بھائیو ! اس حدیثِ پاک سے اشارہ مِل رہا ہے کہ جس کے دِل میں حَسَد ہو ، کوئی بعید نہیں کہ حَسَد اس کے بُرے خاتمے کا بھی سبب بن جائے۔
امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں : حضرت فضیل بن عیاض رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا ایک شاگرد تھا ، جب اس کا آخری وقت آیا تو آپ اسے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور اس کے قریب بیٹھ کر سورۂ یٰس شریف پڑھنے لگے ، وہ شاگِرد بولا : یہ پڑھنا بند کرو !
پھر آپ نے اپنے شاگرد کو کلمہ پڑھنے کی تلقین فرمائی تو وہ بولا : میں ہر گز یہ کلمہ نہیں پڑھوں گا ، میں اس سے بیزار ہوں ، بس انہی الفاظ پر اس کی موت ہو گئی۔ حضرت فضیل بن عیاض رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو اپنے شاگرد کے بُرے خاتمے کا بہت صدمہ ہوا ، 40 دِن تک آپ اسی صدمے سے روتے رہے۔ 40 دِن کے بعد آپ نے ایک دِن خواب دیکھاکہ فرشتے آپ کے اسی شاگرد کو جہنّم کی طرف گھسیٹ رہے ہیں۔ آپ نے اس سے پوچھا : تیرا اِیْمان کیوں چھن گیا ؟ اس نے جواب دیا : میرے اندر 3عیب تھے ، انہی کے سبب میرا یہ انجام ہوا؛ ( 1 ) : میں چغلی کھایا کرتا تھا ( 2 ) : میں اپنے ساتھیوں سے حَسَد کرتا تھا ( 3 ) : میں سال
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami