Share this link via
Personality Websites!
کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور كہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہو لو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کر دے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دے کہ کہیں تم احسان مانو۔
اس آیتِ کریمہ میں پانی نہ ملنے کی صُورت میں تَیَمُّمکی اجازت دی گئی ، اس پر صحابۂ کرام علیہم الرِّضْوَان نے فرمایا : مَا ھِیَ بِاَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ اِبِی بَکْریعنی اے اولادِ ابو بکر رَضِیَ اللہ عنہ ! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے ( مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں ) ۔ ( [1] )
پیارے اسلامی بھائیو ! ویسے تو اس آیتِ کریمہ میں بہت سارے مدنی پھول ہیں ، بطورِ خاص اس میں 2 باتیں بیان ہوئیں؛ ( 1 ) : وُضُو کے 4 فرائض بیان ہوئے ( 2 ) : پانی سے وُضُو کرنے اور پانی نہ ملے تو مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا گیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami