Share this link via
Personality Websites!
دے۔ ( [1] )
مطلب یہ کہ ایک کام ہے ، جو بالکل جائِز ہے ، اسے کرنے میں کوئی گُنَاہ نہیں ہے مگر خدشہ ہے کہ اگر بندہ یہ کام کرے گا تو کسی ناجائِز کام میں جا پڑے گا ، اس خدشے کی وجہ سے اُس جائِز کام کو بھی نہ کرنا ، یہ اَہْلِ تقویٰ کا اَہَم اور بنیادی وَصْف ہے ، اس کے بغیر بندہ متقی بن ہی نہیں سکتا۔
امام ابنِ سیرین رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کاتقویٰ
امامِ اِبْنِ سیرین رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه اپنے وقت کے بہت بڑے امام ہوئے ہیں ، اللہ پاک نے آپ کو خوابوں کی تعبیر کے عِلم میں کمال مہارت عطا فرمائی تھی۔امام قُشَیْرِی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه لکھتے ہیں : امام اِبْنِ سیرین رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کے پاس گھی کے 40 کَنَسْتَر ( یعنی ٹین کا ایک چوکور ڈبہ جس میں آج کل گھی تیل وغیرہآتے ہیں ) تھے ، آپ کوخادِم نے بتایا کہ ان کنستروں میں سے کسی ایک میں سے مَرا ہوا چوہا نکلا ہےمگر میں یہ نہیں جانتا کہ وہ کس کنستر میں تھا۔
اب دیکھئے ! یہ شُبہ آگیا ، 40 میں سے 39 کنستر بالکل پاک ہیں ، مرا ہوا چوہا صِرْف ایک میں سے نکلا ہے لیکن یہ نہیں پتا کہ 40 میں سے وہ ایک کنسترکونسا ہے ، لہٰذا باقی 39 میں بھی شُبہ آگیا ، بَس اسی شُبے کی وجہ سے امام اِبْنِ سِیْرین رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نے 40 کے40 کنستروں میں سے کسی ایک کا بھی گھی استعمال نہیں فرمایا۔ ( [2] ) کیوں استعمال نہیں فرمایا ؟ حَذْراً لِمَا بِہِ الْبَاْسُ یعنی اس ڈر سے کہ کہیں میں ناجائِز میں نہ پڑجاؤں ، ایسا نہ ہو کہ وہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami