Share this link via
Personality Websites!
وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘ ( پارہ : 2 ، سورۂ بقرہ : 197 )
ترجَمۂ کنزُ الایمان : اور توشہ ( سفر کا خرچ ) ساتھ لو کہ سب سے بہتر تَوشہ پرہیزگاری ہے۔
اس آیتِ کریمہ میں حکم دیا گیا کہ جب بھی سَفَر پر نکلو تو زادِ راہ ساتھ لے لیا کرو اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ بالخصوص ہم نے سب سے اَہَم اور یقینی سَفَر جو کرنا ہے ، یعنی آخرت کاسَفَر ، اس سَفَر کا تَو اَصْل زادِ راہ ہے ہی تقویٰ۔ امام غزالی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه لکھتے ہیں : کسی کا عزیز وفات پا گیا تو انہوں نے اُس کی تدفین کے بعد قبر پر ایک عبرتناک شعر لکھا :
لَیْسَ زَاد سِوَی التُّقَا فَخُذِیْ مِنْہُ اَوْ دُعِی
اس سَفَر کا زادِ راہ صِرْف تقویٰ ہے ، اب تمہاری مرضی تقویٰ اختیار کر و یا نہ کرو ! ( [1] )
اَہْلِ تقویٰ کے اَوْصاف کا بیان
پیارے اسلامی بھائیو ! اللہ پاک ہم سب کو تقویٰ کی دولت نصیب فرمائے۔ ہم نے تقویٰ کیسے حاصِل کرنا ہے ؟ اس کے لئے آئیے ! اَہْلِ تقویٰ کے چند اَوْصاف اس نیت سے سنتے ہیں کہ ہم بھی یہ اعلیٰ اَوْصاف اپنا کر متقی بننے کی کوشش کریں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم !
( 1 ) : اَہْلِ تقویٰ کا پہلا وَصف : شبہات سے بچنا
اللہ پاک کےنبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : لَا یَبْلُغُ الْعَبْدُ اَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْمُتَّقِیْن حَتّٰی یَدَعَ مَا لَابَاْسَ بِہٖ حَذْراً لِمَا بِہِ الْبَاْسُ یعنی بندہ اُس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک کہ ناجائِز میں پڑنے کے خوف سے جائِز کام بھی چھوڑ نہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami