Share this link via
Personality Websites!
پرہیز گار شخص کے سِوا کسی نے آپ کو خوش نہیں کیا۔ ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
عزّت ساری کی ساری تقویٰ میں ہے
اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ ( پارہ : 26 ، سورۂ حجرات : 13 )
ترجَمۂ کنزُ الایمان : بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عزت و فضیلت کا معیار نسب نہیں بلکہ پرہیزگاری ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نسب پر فخر کرنے سے بچے اور تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرے تاکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اسے عزت و فضیلت نصیب ہو۔ ( [2] )
پیارے اسلامی بھائیو ! غور فرمائیے ! یہ کیسی اعلیٰ خُوبیاں ہیں * جو اللہ پاک نے تقویٰ میں رکھ دی ہیں * تقویٰ ہر بھلائی کی اَصْل ہے * سب اگلے پچھلوں کو تقویٰ ہی کی وصیت کی گئی * تقویٰ والا ہی ہے جس سے رسولِ اکرم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهٖ وَ سَلَّم زیادہ خُوش ہوتے ہیں * تقویٰ ہی عزّت کا اَصْل معیار ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ایسی عظیمُ الشّان دولت حاصِل کرنے یعنی تقویٰ اپنانے کی کوشش کریں۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami