Share this link via
Personality Websites!
ایک مرتبہ کسی مُرِیْد نے اپنے پِیْر صاحب کی خِدْمت میں عرض کیا : عالی جاہ ! مجھے کوئی وصیت کر دیجئے ! پِیْر صاحب نے فرمایا : میں تجھے اللہ پاک کی وہ وصیت کرتا ہوں جو اللہ پاک نے اگلے پچھلے تمام انسانوں کو کی ہے ، اللہ پاک فرماتا ہے :
وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ ( پارہ : 5 ، سورۂ نسآء : 131 )
ترجَمۂ کنزُ الایمان : اور بےشک تاکید فرما دی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔
اے عاشقانِ رسول ! ذرا غور فرمائیے ! اللہ رَبُّ العالمین ہے ، اللہ پاک تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ، اللہ پاک بندوں کے لئے سب سے بڑھ کر مہربان ، رحم فرمانے والا ہے ، وہ اللہ پاک اپنے بندوں کو تقویٰ کی وصیت فرماتا ہے ، اگر بندے کے لئے تقویٰ کے عِلاوہ کوئی اور چیز زیادہ فائدے مند ، زیادہ بھلائی والی ہوتی تو اللہ پاک اپنے بندوں کو ضرور اسی کی تاکید فرماتا مگر اللہ پاک نے تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت فرمائی ، تمام اَوَّلِیْن و آخرین کو تقویٰ ہی کا حکم دیا ، اس سے معلوم ہو گیا کہ اللہ پاک کے ہاں بندے کی خوبیوں میں سب سے اعلیٰ خوبی تقویٰ ہی ہے۔
پیارے آقا صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهٖ وَ سَلَّم کا پسندیدہ کون ؟
سب مسلمانوں کی پیاری اَمّی جان حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْها فرماتی ہیں : رسولِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهٖ وَ سَلَّم دُنیا کی کسی چیز سے خوش نہ ہوئے اور متقی و
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami