Share this link via
Personality Websites!
مَلَکُ الموت عَلَیْهِ السَّلَام رُوح قبض کر لیں گے اور کوئی کچھ نہیں کر پائے گا۔ پھر ہمیں غسل دے کر ، کفن پہنا کر اندھیری قبر میں اُتار دیا جائے گا ، پھر ہم ہوں گے اور ہمارے اَعْمَال ہوں گے ، اس کے سِوا کچھ بھی ہمارے ساتھ نہیں جائے گا۔ مقامِ غور ہے ! ہم نے اس دُنیا میں کچھ ہی وقت گزارنا ہے ، وہ بھی کتنا ہے ؟ ہمیں معلوم نہیں ، ہو سکتا ہے اگلی سانس بھی لینے کا موقع نہ مل پائے۔ اس کے باوُجُود ہم جتنا اس دُنیا کے لئے کرتے ہیں ؟ چلو اتنی نہیں اس سے آدھی ہی سہی ، کیا ہم قبر کے لئے تیاری کرتے ہیں ؟ شاید نہیں کر پاتے۔
ہمارے اسلاف ( یعنی اللہ پاک کے نیک بندے جو متقی تھے ، پرہیز گار تھے ) انہیں بَس قبر و آخرت کی فِکْر رہتی تھی اور یہ ہر وقت موت کی تیاری میں ہی مَصْرُوف رہا کرتے تھے۔ * خواجہ سِرِّی سَقطی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ 98 سال دُنیا میں تشریف فرما رہے ، نزع کے وقت کے عِلاوہ کسی نے آپ کو کبھی لیٹے ہوئے نہ دیکھا ، ہمیشہ عبادت کیا کرتے * محمد جریری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ایک سال مکہ مکرمہ میں رہے ، نہ سوئے ، نہ پیٹھ سیدھی کی ، نہ پاؤں پھیلائے ، نمازِ فجر پڑھ کر ذِکْرُ اللہ شروع کرتے ، ظہر ہو جاتی ، ظہر کے بعد پھر ذِکْرِ اِلٰہی میں مَصْرُوف ہوتے ، یہاں تک عصر ہو جاتی ، عصر سے مغرب تک ، مغرب سے عشاء تک ، عشاء سے پھر فجر تک بیٹھے ذِکْرُ اللہ ہی کرتے رہتے * حضرت ابو بکر عیاش رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ روزانہ 30 ہزار بار سورۂ اخلاص پڑھتے ، روزانہ 500 نوافل پڑھتے ، دِن میں کئی کئی ختمِ قرآن کیا کرتے * امام اعظم ، امام ابو حنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے 40 سال عشاء کے وُضو سے فجر کی نماز ادا کی ، ہر رات 2
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami