Share this link via
Personality Websites!
حشر میں آسانی نصیب ہوتی ہے * اور قناعت جنّت میں لے جانے والا کام ہے۔
( 4 ) : آخرت کی تیاری
پیارے اسلامی بھائیو ! مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ اَمِیْرُ الْمُؤمنین مولیٰ علی رَضِیَ اللّٰهُ عَنْه نے اَہْلِ تقویٰ کا چوتھا وَصْف یہ بتایا : اَلْاِسْتِعْدَادُ لِیَوْمِ الرَّحِیْل یعنی اس دُنیا سے کُوچ کرنے کے دِن کی تیاری کرنا۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ ( پارہ : 3 ، سورۂ بقرۃ : 281 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! یہ عبرت کی بات ہے ، ہم اس دُنیا میں بہت کچھ کرتے ہیں ، * بڑی بڑی ڈگریاں بھی حاصِل کرتے ہیں * نوکری * کاروبار * کمانا ، کھانا * بڑے بڑے منصوبے بنانا * کوٹھی ، بنگلہ ، عالی شان محلات * اعلیٰ سے اعلیٰ منصب کے لئے بھاگ دوڑ وغیرہ بہت کچھ کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات ہے ، کیا ہم اُس دِن کے لئے تیاری کرتے ہیں جس دِن سب کچھ یہیں چھوڑ چھاڑ کر اندھیری قبر میں اُتر جانا ہے ، آہ ! وہ کیسی بےبسی کا دِن ہو گا ، کیسی بےکسی ہو گی ، جب حضرت عزرائیل عَلَیْهِ السَّلَام تشریف لائیں گے ، ہمارے عزیز رشتے دار ، اولاد ، جان سے بڑھ کر پیار کرنے والے ، ہمارے پیارے دوست ، ہمارا مال ، بینک بیلنس وغیرہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا ، عزیز کھڑے دیکھتے رہ جائیں گے ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami