Share this link via
Personality Websites!
قناعت سے متعلق اَہْلِ تقویٰ کے 2 واقعات
* حضرت محمد بن واسِع رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نمک اور سِرْکے کے ساتھ روٹی کھایا کرتے تھے ، آپ فرماتے تھے : جو بندہ اتنی سی دُنیا پر راضِی ہو جائے وہ لوگوں کے سامنے ذِلّت سے بچ جاتا ہے۔ ( [1] ) * حضرت سفیان ثوری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه فرماتے ہیں : آج کے زمانے میں جو بندہ جَو کی روٹی پر قناعت نہ کرے ، وہ ذِلّت و رُسْوائی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت سفیان ثوری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کی خدمت میں عرض کیا : کیا میں مال جمع کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : مال جمع کرنے میں 5 بُرائیاں ہیں : 1 : اس سے اُمِّید لمبی ہوتی ہے ( حالانکہ ہمیں ایک پَل کا بھی بھروسہ نہیں ، جانے کب موت آجائے ) 2 : مال جمع کرنے سے حرص بڑھ جاتی ہے3 : مال جمع کرنے کے سبب بخل ( یعنی کنجوسی ) میں اِضافہ ہو جاتا ہے 4 : مال جمع کرنے کے سبب بندہ آخرت کو بھولتا اور غفلت میں پڑتا ہے5 : مال جمع کرنے کی ایک بڑی آفت یہ ہے کہ بندے کی پرہیزگاری میں کمی آجاتی ہے۔ ( [2] )
اللہ پاک ہمیں مال کی حِرْص سے محفوظ فرمائے * قناعت ( یعنی اللہ پاک نے جو دیا ، اس پر راضی ہو جانا ) بہت بڑی نعمت ہے * قناعت سنتِ مصطفےٰ ہے * قناعت صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰهِ عَلَیْهِمْ کا طریقہ ہے * قناعت اولیائے کرام کا طریقہ ہے * قناعت اختیار کرنے والا اللہ پاک کا محبوب ہے * قناعت سے اللہ پاک کی رضا ملتی ہے * قناعت کی برکت سے قبر و
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami