Share this link via
Personality Websites!
معمول بنائیے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم ! زِندگی سنورے گی ، سنتیں سیکھنے کا موقع ملے گا ، دِل میں عشقِ رسول بڑھ جائے گا اور اللہ پاک کے فضل و کرم سے دین و دُنیا کی بےشُمار بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
پیارے اسلامی بھائیو ! اَہْلِ تقویٰ کے اَوصاف جو مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ اَمِیْرُ الْمُؤمنین حضرت علی المرتضی رَضِیَ اللہ عَنْه نے بتائے ، ان میں تیسرا وَصْف ہے : اَلْقَنَاعَۃُ بِالْقَلِیْل یعنی تھوڑے پر قناعت کرنا۔
قناعت کا معنی ہے : قسمت پر راضی رہنا۔ یہ بھی تقویٰ کے لئے بنیادی وَصْف ہے ، جس کو قناعت نصیب نہ ہو ، اس کا گُنَاہوں سے بچ پانا بہت دُشوار ہوتا ہے ، بہت سارے ایسے گُنَاہ ہیں جو حِرْص اور لالچ ہی کی وجہ سے ہوتے ہیں * لالچ کی وجہ سے ہی رشوت کا لین دین ہوتا ہے * لالچ ہی کی وجہ سے سُودی کاروبار کئے جاتے ہیں * لالچ ہی کی وجہ سے حرام ذرائع سے مال حاصِل کیا جاتا ہے * لالچ میں آ کر ہی لوگ یتیموں کاحق مارتے ہیں * لالچ میں آکر بھائی بھائی کا قتل بھی کر ڈالتا ہے * حتی کہ بعض لالچی طبیعت کے لو گ غیر مسلم ملکوں میں جانے کے لئے اپنے آپ کو کافِر بھی لکھ دیتے ہیں۔
لہٰذا جو بندہ اللہ پاک کے دئیے پر راضی ہو کر قناعت اختیار نہ کرے ، اس کا گُنَاہوں سے بچنا انتہائی دُشوار ہے اور جو گُنَاہوں سے نہیں بچ پائے گا ، وہ متقی کیسے بنے گا ؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami