Share this link via
Personality Websites!
اے عاشقانِ رسول ! دیکھئے ! کیسا خوفِ خُدا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه خلیفہ تھے ، آپ کے پاس حکومت تھی ، تاج و تخت تھا ، اختیارات تھے ، یہ وہ چیزیں ہیں جو عُمُوماً لوگوں کو سرکش بنا دیتی ہیں ، حکومت ، عہدہ ، اختیارات مِل جائیں تو لوگ گُنَاہوں پر دلیر ہو جاتے ہیں لیکن حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه خلیفہ بننے سے پہلے بھی متقی تھے ، خلیفہ بننے کے بعد بھی متقی ہی رہے ، آپ نے اپنے دورِ حکومت میں ظلم نہیں کیا ، لوگوں کے حقوق پامال نہیں کئے بلکہ عدل و انصاف قائِم کیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کے دِل میں خوفِ خُدا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
معلوم ہوا گُنَاہوں سے بچنے اور تقویٰ حاصِل کرنے کے لئے خوفِ خُدا بہت ضروری ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی خوفِ خُدا کی نعمت نصیب فرمائے۔ خوفِ خُدا حاصِل کرنے کے لئے * تلاوتِ قرآن کا معمول بنایا جائے ، بالخصوص وہ آیات جن میں اللہ پاک کے عذاب کا ، جہنّم کا ، قیامت کا ذِکْر ہے ، اُن آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ کر ذِہن میں بٹھا کر خوب توجہ سے بار بار اُن آیات کی تلاوت کی جائے * احادیث میں خوفِ خُدا کا بیان ہے ، ایسی احادیث پڑھی جائیں * خوفِ خُدا پر مبنی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے * خوفِ خُدا رکھنے والے بزرگانِ دِین کی سیرت پڑھی جائے * ٹائم ٹیبل بنا کر روزانہ یا کم از کم ہفتے میں ایک بار قبرستان حاضِری دی جائے ، وہاں فاتحہ شریف بھی پڑھی جائے ساتھ ہی ساتھ اس بات پر غور بھی کیا جائے کہ عنقریب میں نے بھی قبر میں آنا ہے ، اس وقت میری بےبسی کا عالَم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami