Share this link via
Personality Websites!
( 1 ) : خوفِ خُدا
خوفِ خُدا ایک لگام ہے ، جو آدمی کو گُنَاہوں سے روک کر رکھتی ہے ، اگر یہ لگام ٹوٹ جائے یا ڈھیلی ہو جائے ( یعنی دِل میں خوفِ خُدا نہ رہے ) تو بندہ گُنَاہوں پر دلیر ہو جاتا ہے ، لہٰذا خوفِ خُدا اَہْلِ تقویٰ کا بہت ضروری وَصْف ہے۔
حضرت عُمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کا خوفِ خُدا
منقول ہے : ایک مرتبہ حضرت یزید رقّاشی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کی خدمت میں حاضِر ہوئے ، حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نے فرمایا : مجھے کوئی نصیحت کیجئے ! حضرت یزید رقّاشی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جسے موت آئے گی ( یعنی آپ سے پہلے بھی کئی بادشاہ ہو چکے ہیں ) ۔ یہ سُن کر حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه رونے لگے ، پھر فرمایا : اور نصیحت کیجئے ! حضرت یزید رقّاشی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نے کہا : آپ سے لے کر حضرت آدم عَلَیْهِ السَّلَام تک آپ کے جتنے آباء و اَجْداد ہیں ، ان میں سے کوئی بھی اب زندہ نہیں ہے۔حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه پھر رَوئے اور فرمایا : مزیدنصیحت کرو ! حضرت یزید رقّاشی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نے کہا : جنّت اور دوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے ( یعنی ہمارا ٹھکانا یا تو جہنّم ہے یا جنّت ہے ، اس کے سِوا اور کوئی جگہ نہیں ) ۔ یہ بات سُن کر تو حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه پر خوفِ خُدا خُوب غالِب آیا اور آپ بےہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔ ( [1] )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami