Share this link via
Personality Websites!
بہت ہے۔ اس لئے تقویٰ یہ ہے کہ آدمی نگاہیں جھکا کر چلے اور چلنے کا سُنّت طریقہ بھی یہی ہے۔ مفتئ دعوتِ اسلامی ، مفتی محمدفاروق عطاری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کا نگاہوں کی حفاظت کا بہت جذبہ تھا ، آپ نے ضرورت کے لئے موٹرسائیکل رکھی ہوئی تھی مگر آپ نے اس لئے موٹر سائیکل بیچ ڈالی کہ سٹرک پر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے نگاہیں نیچی نہیں ہو پاتیں اور بدنگاہی میں پڑ جانے کا بہت اندیشہ رہتا ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ ! یہ ہے تقویٰ ! اللہ پاک ہمیں بھی تقوی کی نعمت نصیب فرمائے۔
یہ باتیں سُن کر شاید لگ رہا ہو گا کہ متقی ، پرہیز گار بننا بہت مشکل ہے ، یہ ہمارے بَس کی بات نہیں ہے ، واقعی متقی بننا ہے تَو مشکل مگر ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو بہت آسان بھی ہے ، حضرت سفیان ثوری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه فرماتے ہیں : پرہیزگاری سے بڑھ کر آسان کوئی کام نہیں ، بَس جو تمہارے دِل میں کھٹکے اسے چھوڑ دو۔ ( [1] ) یعنی جس کام کے متعلق 100 فیصد معلوم نہیں ہے کہ یہ کام بالکل جائز ہے اور اس کی وجہ سے گُنَاہ میں پڑنے کا اندیشہ بھی نہیں ہے ، اس کام کے متعلق جب تک شرعی راہنمائی نہ لے لو ، اس وقت تک وہ کام نہ کرو !
امام شعرانی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه فرماتے ہیں : اللہ پاک کے نیک بندوں کے اخلاق میں سے ہے کہ جب تک انہیں قرآن و سُنّت اور شریعت کی روشنی میں کسی کام کا واضِح حکم معلوم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami