Share this link via
Personality Websites!
احتیاط فرماتے تھے ، پُھونک پُھونک کر قدم رکھتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم گُنَاہ میں پڑ جائیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی تقویٰ و پرہیز گاری نصیب فرمائے۔ ان نیک لوگوں کی سیرت پڑھتے ہیں تو اپنے آپ پر شرمندگی ہونے لگتی ہے ، ہمارے ہاں تو ایسی احتیاطوں کا نام و نشان بھی نہیں ملتا ، اِلَّا مَاشَآءَاللہ !
مثلاً * آج کل سوشل میڈیا کو بِلاتَکَلُّف استعمال کیا جاتا ہے ، کیا بچے ، کیا جوان فیس بُک کھول کر بَس لگے ہوتے ہیں حالانکہ سوشل میڈیا کے استعمال میں گُنَاہ کاخدشہ نہیں خدشات ہیں ، بہت مشکل ہے کہ آدمی سوشل میڈیاکا بےدھڑک استعمال کرے اور بدنگاہی اور اس جیسے دوسرے سنگین گُنَاہوں سے بچ جائے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال بھی منع ہے ، فیس بُک ، واٹس ایپ ، یُو ٹیوب وغیرہ کے اچھے پہلو بھی ہیں اور کرنے والے اس کا اچھا استعمال بھی کرتے ہی ہیں ، البتہ تقویٰ یہی ہے کہ جسے واقعی ان چیزوں کی ضرورت ہو ، وہ بقدرِ ضرورت استعمال کرے ، ورنہ عافیت اسی میں ہے کہ سوشل میڈیا سے دُور ہی رہا جائے کہ اس کے ذریعے گُنَاہوں میں جا پڑنے کا شدید ترین اندیشہ ہے * اسی طرح ایک بہت عام سِی مثال پریشان نظری ( یعنی اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے چلنا ) بھی ہے ، ہمارے دَور میں تو اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے چلنا سخت تشویش ناک ہے ، سڑکوں پر بڑے بڑے سائِن بورڈ لگے ہوتے ہیں ، اُن پر بےپردہ خواتین کی تصویریں بھی بنی ہوتی ہیں بلکہ اب تو S.M.D آگئی ، سٹرکوں پر تشہیر کے لئے باقاعِدہ وِیڈیو چل رہی ہوتی ہے ، اُس میں عورتیں بھی ہوتی ہیں ، اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ، مُنہ اُٹھائے چلنا ہے جائِز ( یعنی اس میں گُنَاہ نہیں ہے ) مگراس کی وجہ سے بدنگاہی کے گُنَاہ میں پڑ جانے کا اندیشہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami