Share this link via
Personality Websites!
ایک کنستر جس کا میں گھی استعمال کروں گا ، یہ وہی ہو جس میں سے چوہا نکلا ہے۔
یہ ہے اَہْلِ تقویٰ کا اعلیٰ وَصْف کہ یہ پاکیزہ لوگ اللہ پاک سے بہت ڈرتے ہیں ، خوفِ خُدا کی وجہ سے گُنَاہوں کے قریب بھی نہیں جاتے یہاں تک کہ ایساجائِز کام جس کے کرنے کی وجہ سے گُنَاہ میں پڑ جانے کا خوف ہو ، اُس جائِز کام سے بھی دُور رہتے ہیں۔
حضرت بایزید بسطامی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه کا تقویٰ
حضرت بایزید بسطامی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه بھی بہت بڑے متقی ، پرہیز گار تھے ، اللہ پاک نے آپ کو ولایت کا بہت بلند رُتبہ عطافرمایا تھا ، ایک مرتبہ حضرت با یزید بسطامی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه سَفَر پر تھے ، راستے میں ایک جگہ قیام فرمایا ، مرید بھی ساتھ تھے ، حضرت با یزید بسطامی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نےاپنی قمیض مبارک دھوئی ، مُرِیْدوں نے عرض کیا : عالیٰ جاہ ! یہ قمیض سامنے والی دیوار پر پھیلا دی جائے تا کہ سوکھ جائے ۔فرمایا : نہیں ! یہ جس کی دیوار ہے ہم نے اس سے اجازت نہیں لی۔ مُرِیْدوں نے عرض کیا : پھر اس کو درخت کی ٹہنی پر لٹکا دیتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : درخت کی ٹہنی پر پرندے بیٹھتے ہیں ، ہم پرندوں سے ان کے بیٹھنے کی جگہ نہیں چھین سکتے۔ مُریدوں نے عرض کیا : عالیٰ جاہ ! پھر اس قمیض مبارک کو ہم گھاس پر پھیلا دیتے ہیں ؟ فرمایا : نہیں ! گھاس جانوروں کا کھانا ہے ، ہم ان کا کھانا اِن سے چُھپا نہیں سکتے۔آخر حضرت با یزید بسطامی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْه نے اپنی قمیض مبارک کو اپنی پیٹھ پر ڈالا اور اپنی پیٹھ سُورج کی طرف کر دی یہاں تک کہ قمیض مبارک سُوکھ گئی۔ ( [1] )
سُبْحٰنَ اللہ ! یہ ہے تقویٰ... ! ! ذرا غور فرمائیے ! اللہ پاک کے یہ نیک بندے کیسی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami