Share this link via
Personality Websites!
اُٹھ کھڑے ہوں گے * سب کو ہانک کر میدانِ محشر میں جمع کر دیا جائے گا * یہ زمین تانبے کی زمین سے بدل دی جائے گی * آسمان لپیٹ دیا جائے گا * سورج سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہو گا * جہنّم کو لایا جائے گا * اس کی پشت پر بال سے باریک ، تلوار سے تیز ، اندھیرے میں ڈُوبا ہوا پُل صِراط رکھ دیا جائے گا * سامنا قہر کا ہو گا * لوگ پسینے سے شرابُور ہوں گے * بعض اپنے ہی پسینے میں ڈُبکیاں لے رہے ہوں گے ، خُدائے قَهَّار جَلَّ جَلَالُهٗ اس روز ایسا غضب فرمائے گا کہ ایسا غضب اس نے کبھی نہیں فرمایا * لمبا عرصہ اسی حال پر گزر جائے گا * پھر کہیں جا کر حِساب شروع ہو گا۔
اب ذرا تَصَوُّر باندھئے ! اس صُورتِ حال میں ہمیں پُکارا جا رہا ہو گا : اے فُلاں بِنْ فُلاں ! رَبّ کے حُضُور حاضِر ہو... ! ! آہ ! اس غضبناک پُکار پر ہم جھجکیں گے ، ڈریں گے ، منہ چھپائیں گے مگر آہ ! اس روز کون ہے جو چھپ سکے گا... ؟ فرشتے کھینچ کر رَبِّ جَبَّارُ و قَهَّار جَلَّ جَلَالُهٗ کے حُضُور پیش کر دیں گے ، آہ ! صد کروڑ آہ ! ایسے ہولناک منظر میں ہم اپنے ایک ایک عَمَل کا حساب کیسے دے پائیں گے ؟ ہمارا اَعْمَال نامہ ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا جائے گا ، ہمارا ہر چھوٹے سے چھوٹا ، بڑے سے بڑا عَمَل اَعْمَال نامے میں دَرْج ہو گا ، مُجْرِم پُکاریں گے :
یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶) یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ(۲۷) مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸) هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ(۲۹) ( پارہ : 29 ، سورۂ حاقّۃ : 25 تا 29 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : ہائے کسی طرح مجھے اپنا نَوِشْتَہ ( نامۂ اعمال ) نہ دیا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہےہائے کسی طرح موت ہی قصّہ چکا جاتی میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال میرا سب زور جاتا رہا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami