Share this link via
Personality Websites!
معمولات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ماہِ رمضان میں تِلاوتِ قرآن کی خوب کثرت فرمایا کرتے تھے بلکہ صحابئ رسول حضرت اِبنِ عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہر سال رمضانُ المُبارک کی ہر رات حضرت جبریلِ امین علیہ السّلام حاضِر ہوتے اور پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اُن کے ساتھ دَور فرمایا کرتے تھے۔ ( [1] )
معلوم ہوا؛ رمضانُ المُبارک میں قرآنِ کریم کا دَور کرنا ادائے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہے۔ دَوْر کا مطلب ہے : ایک پڑھے ، دوسرا سُنے ، پھر دوسرا پڑھے ، پہلا سُنے۔ حُفّاظِ کرام تو عُمُوماً دَور کرتے ہیں ، بالخصوص تراوِیح میں جو پارہ پڑھنا ہوتا ہے ، اس کا دَور کرتے ہیں ، اس سے حفظ پکّا ہو جاتا ہے۔ کاش ! ہم بھی اس ادائے مصطفےٰ کو ادا کریں ، گھر میں 2 بھائی مِل جائیں ، بہن بھائی مل کر دَور کر لیں ، ماں بیٹا بلکہ مِیاں بیوی بھی مِل کر دَور کر سکتے ہیں ، اگر حِفْظ نہیں کیا تو بھی کوئی بات نہیں ، دونوں اپنے سامنے قرآنِ کریم کھول لیں ، ایک اُوپر سے دیکھ کر پڑھے ، دوسرا دیکھ دیکھ کر سنتا جائے ، پھر دوسرا دیکھ کر پڑھے ، پہلا دیکھ کر سنتا جائے۔اس طرح اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم ! قرآنِ کریم پڑھنے کا بھی ثواب ملے گا اور ساتھ ہی ساتھ سننے کا ثواب بھی نصیب ہو گا۔ یاد رہے ! قرآن پڑھا جا رہا ہو تو سننا فرض ہے اور رمضانُ المُبارک میں فرض کا ثواب 70 گُنا بڑھا دیا جاتا ہے ، اگر ہم ادائے مصطفےٰ کو ادا کرتے ہوئے قرآنِ کریم کا دَور کریں گے تو اس فرض کی ادائیگی ہو گی اور اللہ پاک کے کرم سے 70 گُنَا بڑھا کر ثواب کے حق دار قرار پائیں گے۔
ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami