Share this link via
Personality Websites!
تھے ، رمضان المبارک کا مہینا تھا اور دوپہر کا وَقْت تھا ، میں خاتونِ جَنّت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا کے گھر گئی ، دروازہ بند تھا اور اندر سے چکی چلنے کی آواز آرہی تھی۔
پہلے دَوْر میں دانے پیس کر آٹا بنانے کے لئے پتھر کی چکی ہوتی تھی اور اسے ہاتھ سے چلایا جاتا تھا ، چکی چلنے کی آواز آنے کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا گھر میں مَوْجُود ہیں اور چکی چلا رہی ہیں لیکن مُعَاملہ اس کے اُلٹ تھا ، چنانچہ دروازے کی دراڑ سے حضرت اُمِّ اَیْمن رَضِیَ اللہ عنہا کی نگاہ اندر پڑی تو دیکھ کر حیران رِہ گئیں کہ چکی چل رہی ہے ، اس میں دانے پیسےجا رہے ہیں ، ساتھ ہی حسنینِ کریمین ( امام حسن و امامِ حسین رَضِیَ اللہ عنہما ) جُھولے میں آرام فرما ہیں اور ان کا جُھولا بھی ہِل رہا ہے مگر سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا چکی کے قریب ہی زمین پر آرام فرما رہی ( یعنی سَو رہی ) ہیں۔ حضرت اُمِّ اَیْمن رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : یہ معاملہ دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی؛ چکی خود بخود کیسے چل رہی ہے ؟ حسنینِ کریمین رَضِیَ اللہ عنہا کا جُھولا خود بخود کیسے ہِل رہا ہے ؟ میں اپنے اس تعجب کا حل معلوم کرنے کے لئے غیبوں پر خبردار نبی ، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ بابرکت میں حاضِر ہوئی اور بتایا : یَارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا تو آرام فرما ہیں مگر چکی بھی چل رہی ہے ، جُھولا بھی ہِل رہا ہے ؟ آخر یہ مُعَاملہ کیا ہے ؟ پیارے آقا ومولیٰ ، مُحَمَّد ِمصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اے اُمِّ اَیْمن ! سخت گرمی ہے ، رمضان ہے ، فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا نے روزہ رکھا ہوا ہے ، اللہ پاک نے فاطمہ پر نیند غالب کر دی تاکہ کچھ دیر آرام کر لیں اور انہیں گرمی کی شِدَّت محسوس نہ ہو اور فرشتوں کو بھیج دیا جو چکی چلا رہے ہیں اورجُھولا ہِلا رہے ہیں۔ ( [1] )
وہ خاتونِ جَنّت معصوم حُوریں باندیاں جن کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami