Share this link via
Personality Websites!
رکھنے ، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے دُنیا کو دُھتکار دیا
مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ، امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ کے دورِ خِلافت ( Caliphate ) کی بات ہے ، حضرت زید بن اَرْقم رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک روز ہم حضرت ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، آپ نے پینے کے لئے پانی طلب فرمایا تو آپ کی خِدْمت میں شہد مِلا پانی پیش کیا گیا ، جب حضرت ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے وہ شربت ہاتھ میں لیا تو آپ پر رِقَّت طاری ہو گئی ، آپ سِسْکیاں لے کر ، پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے۔
کافِی دیر بعدجب آپ کی کیفیت ( Condition ) کچھ سنبھلی تو ہم نے عَرْض کیا : اے خلیفۂ رسول ! کس بات نے آپ کو رُلا دیا ؟ اس پر حضرت ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا : ایک دِن مَیں رسولِ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھا ، مَیں نے دیکھا کہ پیارے نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کسی چیز کو دُھتکار رہے ہیں حالانکہ وہاں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ، مَیں نے عَرْض کیا : یَارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! آپ کس چیز کو دُھتکار رہے ہیں ؟ مالِکِ جنّت ، صاحِبِ کوثَر صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : دُنیا میرے سامنے آئی ، مَیں نے اُس سے کہا : اِلَیْکَ عَنِّی یعنی اے دُنیا ! مجھ سے دُور ہو جا... !
حضرت ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے مزید فرمایا : آج جب پانی کی جگہ مجھے شربت پیش کیا گیا تو مجھے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی دُنیا سے بےرغبتی یاد آگئی اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami