Share this link via
Personality Websites!
یہ حق و باطِل کی مثال ہے۔ ( [1] ) یعنی باطِل جھاگ کی طرح ہے ، جو جلد ہی مٹ جاتا ہے اور حق لوگوں کے لئے نفع بخش ہوتا ہے ، لہٰذا یہ باقی رہتا ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ ! معلوم ہوا ؛ جو چیز لوگوں کو نفع پہنچائے ، وہ باقی رکھی جاتی ہے ، دیکھئے ! پانی لوگوں کے لئے نفع بخش ہے ، اِسے لوگ پیتے ہیں ، جانوروں کو پِلاتے ہیں ، کھیتوں میں پانی لگایا جاتا ہے ، پانی سے جانداروں کی زِندگی وابستہ ہے ، لہٰذا اِسے محفوظ رکھا جاتا ہے ، قُدرت اِس کی حِفاظت کے اسباب بناتی ہے ، زمین پانی کو جذب کر کے اپنے اندر محفوظ کر لیتی ہے ، اِسے گلیشیئرز ( Glaciers ) کی صُورت میں جمع کر لیا جاتا ہے ، اس کے لئے باقاعِدہ دریا ، نہریں اور ندی نالے بنائے جاتے ہیں۔ اِسی طرح جو بندہ نیک کام کرتا ہے ، دُوسروں کو نفع پُہنچاتا ہے ، مسلمانوں کی خیر خواہی کرتا ہے ، غریبوں ، فقیروں ، یتیموں کے کام آتا ہے ، اُس کو بھی باقی رکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت جب وہ بارگاہِ اِلٰہی میں حاضِر ہو گا تو اُس کے یہ نیک اَعْمَال اسے فائدہ پہنچائیں گے اور جنّت میں جانے کا سَبَب بنیں گے۔
دیکھ لیجئے ! حُضُور غوثِ اعظم شیخ عبدُ القادِر جِیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ، داتا حُضور ، خواجہ غریب نواز ، بابا فرید ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہ علیہم اور لاکھوں اَوْلیائے کرام ، انہوں نے زندگی بھر نیک اَعْمَال کئے ، دوسروں کو نفع پہنچایا ، دوسروں کی خیر خواہی کی خاطِر اپنی خواہشات تو خواہشات ، ضروریات کو بھی قربان کیا ، اب یہ اگرچہ دُنیا سے رُخصت ہو گئے مگر اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم ! مزار میں بھی زِندہ ہیں اور اللہ پاک کے فَضْل سے لوگوں کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami