Share this link via
Personality Websites!
فقیروں کا ملجا ، ضعیفوں کا ماوٰی یتیموں کا والی ، غُلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے درگزر کرنے والے بداندیش کے دِل میں گھر کرنے والے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک ہمیں سیرتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے روشنی لینے کی توفیق عطا فرمائے ، کاش ! ہم نفع بخش انسان بنیں ، دوسروں کے کام آئیں ، غریبوں ، یتیموں ، بےسہاروں کی مدد کریں ، جِتنی ہو سکے اپنے پڑوسیوں ، رشتے داروں ، دوستوں اور دیگر مسلمانوں کی دیکھ بھال کیا کریں۔ اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : خَیْرُ النَّاسِ مَنْ نَّفَعَ النَّاسَ لوگوں میں بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ ( [1] )
خیالِ خِدْمتِ خَلْقِ خُدا جو رکھتے ہیں کرم خُدا کا اُنہیں دستیاب ہوتا ہے
نفع بخش اَعْمَال باقی رہتے ہیں
اللہ پاک نے قُرآنِ کریم میں بہت خوبصُورت مثال ذِکْر فرمائی ہے ، اس کا خُلاصہ یہ ہے کہ جب زور دار بارش برستی ہے ، پانی بہنے لگتا ہے تو اس پانی کے اُوپَر جھاگ آجاتی ہے ، یہ جھاگ زیادہ دَیْر باقی نہیں رہتی ، جلد ہی ختم ہو جاتی ہے مگر پانی باقِی رہتا ہے ، کچھ زمین کے اندر جذب ہو کر محفوظ ہو جاتا ہے ، کچھ ندی نالوں وغیرہ میں چلا جاتا ہے ، کچھ کھیتوں میں درخت وغیرہ چُوس لیتے ہیں۔ اب قرآنِ کریم کے الفاظ سنیئے ! رَبِّ کائنات فرماتا ہے :
فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ-وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِؕ ( پارہ : 13 ، سورۂ رعد : 17 )
ترجَمہ کنزُ العرفان : تو جھاگ تو ضائع ہوجاتا ہے اور وہ ( پانی ) جو لوگوں کو فائدہ دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami