Share this link via
Personality Websites!
دِین کی خِدْمت کے لئے مدینۂ منَوَّرہ سے باہَر کہیں سَفَر پر گئے ہوئے تھے۔ جتنے دِن اَبُّو جان گھر سے باہَر رہے ، سرورِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم مُسلسل ہماری دیکھ بھال کرتے رہے ، ہماری ایک بکری تھی ، جتنے دِن اَبُّو جان سَفَر پر رہے ، دوعالَم کے مالِک و مختار ، مکی مدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا معمول رہا کہ آپ تشریف لاتے ، ہم سے برتَن لیتے اور اپنے مُبارَک ہاتھوں سے ہماری بکری کا دُودھ دوہتے ، یہاں تک کہ برتَن کناروں تک بھر جاتا۔ ( [1] )
سُبْحٰنَ اللہ ! پیارے اسلامی بھائیو ! اندازہ لگائیے ! کتنے پیارے ، خوبصُورت اور نِرالے اَخْلاق ہیں ، کائنات کی وہ بلند رُتبہ ہستی کہ فِرِشتے جن کی خِدْمت کی تمنّا رکھتے ہیں ؛
لاکھوں قُدْسی ہیں کامِ خِدْمت پر لاکھوں گِردِ مَزار پِھرتے ہیں ( [2] )
ایسی عزّت والے نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اپنے اُمّتیوں کی ، اپنے غُلاموں کی دیکھ بھال فرماتے تھے ، یہاں تک کہ اپنے مُقَدَّس ، مُبارَک ہاتھوں سے بکریوں کا دُودھ بھی دَوہ دیا کرتے تھے بلکہ مسلمانوں کی پیاری اَمّی جان حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں : سرورِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کسی وقت فارِغ نہیں رہتے تھے ، جب کبھی موقع ملتا تو آپ کوئی جوتا سلائی کر دیتے تاکہ مسکین کے کام آجائے یا کپڑوں کو پیوند لگا دیتے تاکہ کوئی غریب پہن لے۔ ( [3] )
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے مُرادَیں غریبوں کی بَر لانے والے
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami