Share this link via
Personality Websites!
شِکار ہوتے ہیں ، الحمد للہ ! دعوتِ اسلامی اُن تک پہنچنے اور ان کی خیرخواہی کرنے کی کوشش کرتی ہے * 2005ء میں جب کشمیر میں شدید ترین زلزلہ آیا ، درجنوں بستیاں تباہ ہو گئیں ، ہزاروں افراد لقمۂ اجل بنے ایسے کٹھن حالات میں دعوت اسلامی کے تحت مختلف انداز سے زلزلہ متاثرین کی مدد کی گئی جس میں تقریبا450 سے زائد خاندانوں میں راشن تقسیم کیاگیا۔ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر درجنوں میتوں کو ملبے سے نکال کر تجہیز و تکفین کا اہتمام کیا گیا ، مساجد تعمیر کی گئیں * 2019ء کو کشمیر اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید زلزلہ آیا ، جس کے باعث کافی جانی و مالی نقصان ہوا ، اس موقع پر بھی ریلیف کیمپ لگائے گئے ، زلزلے سے متاثرین کے لئے کھانا ، پینے کا صاف پانی اور راشن کی تقسیم کا سلسلہ ہوا * 2021 میں بلوچستان میں زلزلہ آیا ، اس وقت بھی دعوتِ اسلامی بروقت امداد کے لئے پہنچی * 2020 ، 2021 میں کووِڈ-19 یعنی کرونا وائرس کا مسئلہ عالمی سطح پر پیش آیا ، دھڑا دھڑ اموات ہونے لگیں ، روزگار بند ہو گئے ، غریب افراد کرونا کے ساتھ ساتھ بھوک کا بھی شکار ہوئے ، ان حالات میں دعوتِ اسلامی نے غریبوں میں راشن بھی تقسیم کیا ، ہزاروں بےروزگاروں کے لئے نقد رقم کے بھی انتظامات کئے گئے * یہ وہ حالات تھے کہ جو بیچارے کرونا کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتر رہے تھے ، لوگ اپنے ان عزیزوں کو غسل دینے سے بھی خوف زدہ تھے ، الحمد للہ ! دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن نے اس وقت اَہَم خدمات انجام دیں ، کرونا کی وجہ سے مرنے والوں کو غسل بھی دئیے گئے ، کفن بھی پہنائے گئے اور ان کی تدفین کا بھی اہتمام کیا گیا * 2020ء سے 2022 تک دعوتِ اسلامی کی طرف سے تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے خُون کی 53 ہزار خون کی بوتلیں عطیہ کی جا چکی ہیں * 2021ء میں کراچی میں سیلاب متاثرین میں اشیاء خوردو نوش تقسیم کی گئیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami